<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<!-- generator="wordpress/2.1.2" -->
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	>

<channel>
	<title>Faiz Ahmed Faiz</title>
	<link>http://faizahmedfaiz.urdupoet.net</link>
	<description>Poetry of Pakistani Famous Poet - Faiz Ahmed Faiz</description>
	<pubDate>Mon, 21 May 2007 01:11:54 +0000</pubDate>
	<generator>http://wordpress.org/?v=2.1.2</generator>
	<language>en</language>
			<item>
		<title>Intisaab</title>
		<link>http://faizahmedfaiz.urdupoet.net/dast-tah-e-sung/49-intisaab/</link>
		<comments>http://faizahmedfaiz.urdupoet.net/dast-tah-e-sung/49-intisaab/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 28 Apr 2007 11:42:03 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Admin</dc:creator>
		
		<category><![CDATA[Dast Tah e Sung]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://faizahmedfaiz.urdupoet.net/dast-tah-e-sung/49-intisaab/</guid>
		<description><![CDATA[اِنتساب
دیس پردیس کے یارانِ قدح خوار کے نام
حسنِ آفاق ، جمالِ لب و رخسار کے نام

]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<h1 align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono">اِنتساب</font></h1>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">دیس پردیس کے یارانِ قدح خوار کے نام</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">حسنِ آفاق ، جمالِ لب و رخسار کے نام</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4" /></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://faizahmedfaiz.urdupoet.net/dast-tah-e-sung/49-intisaab/feed/</wfw:commentRss>
		</item>
		<item>
		<title>Sir e Aghaaz</title>
		<link>http://faizahmedfaiz.urdupoet.net/dast-tah-e-sung/48-sir-e-aghaaz/</link>
		<comments>http://faizahmedfaiz.urdupoet.net/dast-tah-e-sung/48-sir-e-aghaaz/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 28 Apr 2007 11:41:06 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Admin</dc:creator>
		
		<category><![CDATA[Dast Tah e Sung]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://faizahmedfaiz.urdupoet.net/dast-tah-e-sung/48-sir-e-aghaaz/</guid>
		<description><![CDATA[سرآغاز

شاید کبھی افشا ہو،نگاہوں پہ تمہاری
ہر سادہ ورق، جس سخنِ کُشتہ سے خون ہے
شاید کبھی اُس گیت کا پرچم ہو سرافراز
جو آمدِ صرصر کی تمنا میں نگوں ہے
شاید کبھی اُس دل کی کوئی رگ تمہیں چُبھ جائے
جو سنگِ سرِراہ کی مانند زبوں ہے

]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<h1 align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono">سرآغاز</font></h1>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4" /></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">شاید کبھی افشا ہو،نگاہوں پہ تمہاری</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">ہر سادہ ورق، جس سخنِ کُشتہ سے خون ہے</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">شاید کبھی اُس گیت کا پرچم ہو سرافراز</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">جو آمدِ صرصر کی تمنا میں نگوں ہے</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">شاید کبھی اُس دل کی کوئی رگ تمہیں چُبھ جائے</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">جو سنگِ سرِراہ کی مانند زبوں ہے</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4" /></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://faizahmedfaiz.urdupoet.net/dast-tah-e-sung/48-sir-e-aghaaz/feed/</wfw:commentRss>
		</item>
		<item>
		<title>Taqreer</title>
		<link>http://faizahmedfaiz.urdupoet.net/dast-tah-e-sung/47-taqreer/</link>
		<comments>http://faizahmedfaiz.urdupoet.net/dast-tah-e-sung/47-taqreer/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 28 Apr 2007 11:39:24 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Admin</dc:creator>
		
		<category><![CDATA[Dast Tah e Sung]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://faizahmedfaiz.urdupoet.net/dast-tah-e-sung/47-taqreer/</guid>
		<description><![CDATA[تقریر

فیض صاحب کی تقریر جو انہوں نے ماسکو میں بین الاقوامی لینن امن انعام کی پر شکوہ تقریب کے موقع پر اردو زبان میں کی:

محترم اراکینِ مجلسِ صدارت ، خواتین اور حضرات!
&#160;الفاظ کی تخلیق وترتیب شاعر اور ادیب کا پیشہ ہے۔لیکن زندگی میں بعض مواقع ایسے بھی آتے ہیں جب قدرت کلام جواب دے جاتی [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<h1 align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono">تقریر</font></h1>
<p align="right"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4" /></p>
<p align="right"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">فیض صاحب کی تقریر جو انہوں نے ماسکو میں بین الاقوامی لینن امن انعام کی پر شکوہ تقریب کے موقع پر اردو زبان میں کی:</font></p>
<p align="right"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4" /></p>
<p align="right"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">محترم اراکینِ مجلسِ صدارت ، خواتین اور حضرات!</font></p>
<p align="right"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">&nbsp;الفاظ کی تخلیق وترتیب شاعر اور ادیب کا پیشہ ہے۔لیکن زندگی میں بعض مواقع ایسے بھی آتے ہیں جب قدرت کلام جواب دے جاتی ہے_____آج عجزِ بیان کا ایسا ہی مرحلہ مجھے درپیش ہے۔ایسے کوئی الفاظ میرے ذہن میں نہیں آرہے ، جن میں اپنی عزت افزائی کے لئے لینن پرائز کمیٹی،سوویٹ یونین کے مختلف اداروں ،دوستوں اور سب خواتین اورحضرات کا شکریہ خاطر خواہ طور سے ادا کرسکوں۔لینن امن انعام کی عظمت تو اسی ایک بات سے واضح ہے کہ اس سے لینن کا محترم نام اور مقدس لفظ وابستہ ہے۔لینن جو دور حاضر میں انسانی حریت کا سب سے بزرگ علم بردار ہے اور امن جو انسانی زندگی اور اس زندگی کے حسن وخوبی کی شرطِ اول ہے۔مجھے اپنی تحریر وعمل میں ایسا کوئی کام نظر نہیں آتا جس اس عظیم اعزاز کے شایان شان ہو۔لیکن اس عزت بخشی کی ایک وجہ ضرور ذہن میں آتی ہے اور وہ یہ ہے کہ جس تمنا اور آدرش کے ساتھ مجھے اور میرے ساتھیوں کو وابستگی رہی ہے یعنی امن اور آزادی کی تمنا وہ بجائے خود اتنی عظیم ہے کہ اس واسطے سے ان کے حقیر اور ادنیٰ کارکن بھی عزت اوراکرام کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔</font></p>
<p align="right"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">&nbsp;یوں تو ذہنی طور سے مجنون اور جرائم پیشہ لوگوں کے علاوہ سبھی مانتے ہیں کہ امن اور آزادی بہت حسین اور تابناک چیز ہے اور سبھی تصور کرسکتے ہیں کہ امن گندم کے کھیت ہیں اور سفیدے کے درخت،دلہن کا آنچل ہے اور بچوں کے ہنستے ہوئے ہاتھ،شاعر کا قلم ہے اور مصور کاموئے قلم اورآزادی ان سب صفات کی ضامن اورغلامی ان سب خوبیوں کی قاتل ہے جو انسان اورحیوان میں تمیز کرتی ہے۔یعنی شعور اورذہانت ،انصاف اور صداقت،وقار اورشجاعت،نیکی اور رواداری____اس لئے بظاہر امن اورآزادی اورکے حصول اور تکمیل کے متعلق ہوشمند انسانوں میں اختلاف کی گنجائش نہ ہونا چاہیے۔لیکن بدقسمتی سے یوں نہیں ہے کہ انسانیت کی ابتدارء سے اب تک ہر عہداور ہر دور میں متضاد عوامل اور قوتیں برسرِعمل اور برسرپیکار رہی ہیں۔یہ قوتیں ہیں ،تخریب وتعمیر،ترقی اور زوال،روشنی اور تیرگی،انصا ف دوستی کی قوتیں۔یہی صورت آج بھی ہے اور اسی نوعیت کی کشمکش آج بھی جاری ہے۔لیکن ساتھ ہی ساتھ آج کل انسانی مسائل اور گزشتہ دور کی انسانی الجھنوں میں کئی نوعیتوں سے بھی فرق ہے۔دورِ حاضر میں جنگ سے دوقبیلوں کا باہمی خون خرابہ مراد نہیں ہے۔نہ آج کل امن سے خون خرابے کا خاتمہ مراد ہے۔آج کل جنگ اور امن کے معنی ہیں امنِ آدم کی بقااور فنا۔بقااورفنا ان دو الفاظ پر انسانی تاریخ کے خاتمے یا تسلسل کا دارومدار ہے۔انہیں پرانسانوں کی سرزمین کی آبادی اوربربادی کا انحصار ہے۔یہ پہلا فرق ہے۔دوسرا فرق یہ ہے کہ اب سے پہلے انسانوں کو فطرت کے ذخائر پر اتنی دسترس اور پیداوار کے ذرائع پر اتنی قدرت نہ تھی کہ ہر گروہ اوربرادری کی ضرورتیں پوری طرح تسکین پاسکتیں۔اس لئے آپس میں چھین جھپٹ اور لوٹ مار کا کچھ نہ کچھ جواز بھی موجود ہے۔لیکن اب یہ صورت حال نہیں ہے۔انسانی عقل ، سائنس اورصنعت کی بدولت اس منزل پر پہنچ چکی ہے کہ جس میں سب تن بخوبی پل سکتے ہیں اور سبھی جھولیاں بھرسکتی ہیں۔بشرطیکہ قدرت کے یہ بے بہا ذخائر پیداوار کے یہ بے اندازہ خرمن،بعض اجارہ داروں اورمخصوص طبقوں کی تسکینِ ہوس کے لئے نہیں،بلکہ جملہ انسانوں کی بہبود کے لئے کام میں لائے جائیں۔اورعقل اورسائنس اورصنعت کی کل ایجادیں اورصلاحتیں تخریب کے بجائے تعمیری منصوبوں میں صرف ہوں۔لیکن یہ جبھی ممکن ہے کہ انسانی معاشرے میں ان مقاصد سے مطابقت پیدا ہو اورانسانی معاشرے کے ڈھانچے کی بنائیں ہوسِ ،استحصال اوراجارہ داری کے بجائے انصاف برابری،آزادی اوراجتماعی خوش حالی میں اٹھائیں جائیں۔اب یہ ذہنی اورخیالی بات نہیں،عملی کام ہے۔اس عمل میں امن کی جدوجہد اورآزادی کی حدیں آپس میں مل جاتی ہیں۔اس لئے کہ امن کے دوست اوردشمن اورآزادی کے دوست اس دشمن ایک ہی قبیلے کے لوگ،ایک ہی نوع کی قوتیں ہیں۔ایک طرف وہ سامراجی قوتیںہیں جن کے مفاد،جن کے اجارے جبر اورحسد کے بغیر قائم نہیں رہ سکتے اورجنہیں ان اجاروں کے تحفظ کے لئے پوری انسانیت کی بھینٹ بھی قبول ہے۔دوسری طرف وہ طاقتیں ہیں جنہیں بنکوں اور کمپنیوں کی نسبت انسانوں کی جان زیادہ عزیز ہے۔جنہیں دوسروں پر حکم چلانے کے بجائے آپس میں ہاتھ بٹانے اورساتھ مل کر کام کرنے میں زیادہ لطف آتا ہے۔سیاست واخلاق،ادب اورفن،روزمرہ زندگی،غرض کئی محاذوں پر کئی صورتوں میں تعمیر اورتخریب انسان دوستی اور انسان دشمنی کی یہ چپقلش جاری ہے۔</font></p>
<p align="right"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">&nbsp;آزادی پسند اور امن پسند لوگوں کے لئے ان میں سے ہر محاز اورہرصورت پر توجہ دینا ضروری ہے۔مثال کے طور پر سامراجی اورغیر سامراجی قوتوں کی لازمی کشمکش کے علاوہ بدقسمتی سے بعض ایسے ممالک میں بھی شدید اختلاف موجود ہیں،جنہیں حال ہی میں آزادی ملی۔ایسے اختلافات ہمارے ملک پاکستان اور ہمارے سب سے قریبی ہمسایہ ہندوستان میں موجود ہیں۔بعض عرب ہمساہہ ممالک میں اور بعض افریقی حکومتوں میں موجود ہیں۔ظاہر ہے کہ ان کے اختلافات سے وہی طاقتیں فائدہ اٹھاسکتی ہیں جو امن عالم اورانسانی برادری کی دوستی اور یگانگت کو پسند نہیں کرتیں۔اسلئے صلح پسنداورامن دوست صفوں میں ان اختلافات کے منصفانہ حل پر غوروفکر اوراس حل میں امداددینا بھی لازم ہے۔</font></p>
<p align="right"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">&nbsp;اب سے کچھ دن پہلے جب سوویت فضاؤں کا تازہ کارنامہ ہر طرف دنیا میں گونج رہا تھاتومجھے باربارخیال آتا رہا کہ آج کل جب ہم ستاروں کی دنیا میں بیٹھ کر اپنی ہی دنیا کا نظارہ کرسکتے ہیںتوچھوٹی چھوٹی کمینگیاں،خود غرضیاں ،یہ زمین کے چند ٹکڑوں کو بانٹنے کو کوششیں اورانسانوں کی چند ٹولیوں پر اپنا سکہ چلانے کی خواہش کیسی بعیدازعقل باتیں ہیں۔اب جبکہ ساری کائنات کے راستے ہم پرکشادہ ہوگئے ہیں۔ساری دنیاکے خزینے انسانی بس میں آسکتے ہیں،توکیاانسانوں میں ذی شعور،منصف مزاج اوردیانت دارلوگوں کی اتنی تعداد موجود نہیں ہے جو سب کو منواسکے کہ یہ جنگی اڈے سمیٹ لو۔یہ بم اورراکٹ ،توپیں بندوقیں سمندر میں غرق کردو اور ایک دوسرے پر قبضہ جمانے کی بجائے سب مل کر تسخیر کائنات کو چلو۔جہاں جگہ کی کوئی تنگی نہیں ہے،جہاں کس کو کسی سے الجھنے کی ضرورت نہیں ہے،جہاں لا محدود فضائیں ہیں اوران گنت دنائیں۔مجھے یقین ہے کہ سب رکاوٹوں اورمشکلوں کے باوجود ہم لوگ اپنی انسانی برادری سے یہ بات منواکررہیں گے۔&nbsp;</font></p>
<p align="right"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">&nbsp;مجھے یقین ہے کہ انسانیت جس نے اپنے دشمنوں سے آج تک کبھی ہار نہیں کھائی&nbsp; اب بھی فتح یاب ہوکررہے گی۔اورآخرِکار جنگ ونفرت اورظلم کدورت کے بجائے ہمارے باہمی زندگی کی بناوہی ٹھہرے گی جس کی تلقین اب سے بہت پہلے فارسی شاعر حافظ نے کی تھی&nbsp;&nbsp; </font></p>
<p align="right"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">خلل پذیر بود ہر بناکہ می بینی</font></p>
<p align="right"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">مگر بنائے محبت کہ خالی از خلل است</font></p>
<p align="right"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4" /></p>
<p align="right"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4" /></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://faizahmedfaiz.urdupoet.net/dast-tah-e-sung/47-taqreer/feed/</wfw:commentRss>
		</item>
		<item>
		<title>Faiz Is Faiz</title>
		<link>http://faizahmedfaiz.urdupoet.net/dast-tah-e-sung/46-faiz-is-faiz/</link>
		<comments>http://faizahmedfaiz.urdupoet.net/dast-tah-e-sung/46-faiz-is-faiz/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 28 Apr 2007 11:37:21 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Admin</dc:creator>
		
		<category><![CDATA[Dast Tah e Sung]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://faizahmedfaiz.urdupoet.net/dast-tah-e-sung/46-faiz-is-faiz/</guid>
		<description><![CDATA[فیض از فیض
&#160;اپنے بارے میں باتیں کرنے سے مجھے سخت وحشت ہوتی ہے ۔اس لئے کہ سب لوگوں کا مرغوب مشغلہ یہی ہے۔اس انگریزی لفظ کے معذرت چاہتاہوں لیکن اب تو ہمارے ہاں اس کے مشتقات بوریت وغیرہ بھی استعمال میں آنے لگے ہیں۔اس لئے اب اسے اردو میں روزمرہ میں شامل سمجھنا چاہیے۔تومیں یہ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<h1 align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono">فیض از فیض</font></h1>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">&nbsp;اپنے بارے میں باتیں کرنے سے مجھے سخت وحشت ہوتی ہے ۔اس لئے کہ سب لوگوں کا مرغوب مشغلہ یہی ہے۔اس انگریزی لفظ کے معذرت چاہتاہوں لیکن اب تو ہمارے ہاں اس کے مشتقات بوریت وغیرہ بھی استعمال میں آنے لگے ہیں۔اس لئے اب اسے اردو میں روزمرہ میں شامل سمجھنا چاہیے۔تومیں یہ کہہ رہا تھاکہ مجھے اپنے بارے میں قیل وقال بری لگتی ہے۔بلکہ میں تو شعر میں بھی حتیٰ الامکان واحد متکلم کا صیغہ استعمال نہیں کرتا،اور &rsquo;&rsquo;میں &lsquo;&lsquo;کے بجائے ہمیشہ&rsquo;&rsquo;ہم&lsquo;&lsquo;لکھتاآیا ہوں۔چنانچہ جب ادبی ساغران حضرات مجھ سے یہ پوچھنے بیٹھتے ہیں کہ تم شعرکیوں کہتے ہو تو بات کو ٹالنے کے لئے جو دل میں آئے کہہ دیتاہوں۔مثلاً یہ کہ بھئی میں جیسے بھی کہتاہوں جس لئے بھی کہتا ہوں تم شعر میں خود ڈھونڈواورمیرا سر کھانے کی کیاضرورت ہے۔لیکن ان میں&nbsp; ڈھیٹ قسم کے لوگ جب بھی نہیں مانتے۔چنانچہ آج کی گفتگوکی سب ذمہ داری ان حضرات کے سر ہے مجھ پر نہیں ہے۔</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">&nbsp;شعر گوئی کا واحدعذرِ گناہ تومجھے نہیں معلوم۔اس میں بچپن کی فضائے گردوپیش میں شعر کا چرچا دوست احباب کی ترغیب اور دل کی لگی سبھی کچھ شامل ہے۔یہ نقشِ فریادی کے پہلے حصے کی بات ہے جس میں ۹۲۔۸۲ء سے۵۳ء تک کی تحریریں شامل ہیں،جو ہماری طالب العلمی کے دن تھے۔یوںتوان سب اشعارکاقریب قریب ایک ہی ذہنی اورجذباتی واردات سے تعلق ہے اور اس واردات کا ظاہری محرک تو وہی ایک حادثہ ہے جواس عمر میں نوجوان دلوں پر گزرجایاکرتا ہے۔لیکن اب جو دیکھتا ہوں تویہ دور بھی ایک دور نہیں تھا بلکہ اس کے بھی دو الگ الگ حصے تھے۔جن کی داخلی اورخارجی کیفیت کافی مختلف تھی۔وہ یوں ہے کہ۰۲ء سے۰۳ء تک زمانہ ہمارے ہاں معاشی اورسماجی طورسے کچھ عجب طرح کی بے فکری،آسودگی اورولولہ انگیزی کا زمانہ تھا،جس میں اہم قومی اورسیاسی تحریکوں کے ساتھ ساتھ نثر ونظم میں بیشتر سنجیدہ فکرومشاہدہ کے بجائے کچھ رنگ رلیاں منانے کا سا اندازتھا۔شعر میںاولاً حسرت موہانی اوران کے بعد جوش،حفیظ جالندھری اوراختر شیرانی کی ریاست قائم تھی،افسانے میں یلدرم اورتنقید میں حسن برائے حسن اور ادب برائے ادب کا چرچاتھا۔نقشِ فریادی کی ابتدائی نظمیں ،&nbsp; &rsquo;&rsquo;خدا وہ وقت نہ لائے کہ سوگوارہوتو&lsquo;&lsquo;مری جاں اب بھی اپنا حسن واپس پھیر دے مجھ کو&lsquo;&lsquo;&nbsp; تہ نجوم کہیں چاندنی کے دامن میں&lsquo;&lsquo;وغیرہ وغیرہ اسی ماحول کے زیراثر مرتب ہوئیں اور اس فضا میں&nbsp;&nbsp; ابتدائے عشق کا تحیر بھی شامل تھا۔لیکن ہم لوگ اس دور کی ایک جھلک بھی ٹھیک سے نہ دیکھ پائے تھے کہ صحبتِ یار آخرشد۔پھر دیس پرعالمی کساد بازاری کے سائے ڈھلنے شروع ہوئے۔کالج کے بڑے بڑے بانکے تیس مارخاں تلاشِ معاش میں گلیوں کی خاک پھانکنے لگے۔یہ وہ دن تھے جب یکایک بچوں کی ہنسی بجھ گئی&lsquo;اجڑے ہوئے کسان کھیت کھلیان چھوڑکر شہروں میں مزدوری کرنے لگے اوراچھی خاصی شریف بہو بیٹیاں بازار میں آبیٹھیں۔گھر کے باہر یہ حال تھااورگھر کے اندر مرگِ سوزِ محبت کا کہرام مچاتھا۔یکایک یوں محسوس ہونے لگا کہ دل و دماغ پر سبھی راستے بندہوگئے ہیں اور اب یہاں کوئی نہیں آئے گا۔اس کیفیت کا اختتام جو نقشِ فریادی کے پہلے حصے کی آخری نظموں کی کیفیت ہے ایک نسبتا غیر معروف نظم پر ہوتا ہے، جسے میں نے یاس کا نام دیا تھا۔وہ یوں ہے:</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4" /></p>
<h1 align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono">یاس</font></h1>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">بربطِ دل کے تار ٹوٹ گئے</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">ہیں زمیں بوس راحتوں کے محل</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">مٹ گئے قصہ ہائے فکر وعمل</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">برم ہستی کے جام پھوٹ گئے</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">چِھن گیا کیف کوثر و تسنیم</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">زحمتِ گریہ و بکا بے سود</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">شکوہ بختِ نارسا بے سود</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">ہوچکا ختم رحمتوں کا نزول</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">بند ہے مدتوں سے بابِ قبول</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">بے نیازِ دُعا ہے رب کریم</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">بُجھ گئی شمعِ آرزوئے جمیل</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">یاد باقی ہے بے کسی کی دلیل</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">انتظارِ فضول رہنے دے</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">راز الفت نباہنے والے</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">بارِ غم سے کراہنے والے</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">کاوش بے حصول رہنے دے</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4" /></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://faizahmedfaiz.urdupoet.net/dast-tah-e-sung/46-faiz-is-faiz/feed/</wfw:commentRss>
		</item>
		<item>
		<title>Pehli See Mohabbat Mairay Mehboob Na Maang</title>
		<link>http://faizahmedfaiz.urdupoet.net/dast-tah-e-sung/45-pehli-see-mohabbat-mairay-mehboob-na-maang/</link>
		<comments>http://faizahmedfaiz.urdupoet.net/dast-tah-e-sung/45-pehli-see-mohabbat-mairay-mehboob-na-maang/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 28 Apr 2007 11:35:03 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Admin</dc:creator>
		
		<category><![CDATA[Dast Tah e Sung]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://faizahmedfaiz.urdupoet.net/dast-tah-e-sung/45-pehli-see-mohabbat-mairay-mehboob-na-maang/</guid>
		<description><![CDATA[۴۳ء میں ہم لوگ کالج سے فارغ ہوئے اور ۵۳ء میں میں نے ایم اے او کالج امرتسر میں ملازمت کرلی۔یہاں سے میری اور میرے بہت سے ہمعصرلکھنے والوں کی ذہنی اورجذباتی زندگی کا نیا دور شروع ہوتا ہے۔اس دوران کالج میں اپنے رفقاء صاحب زادہ محمود الظفر مرحوم اوران کی بیگم رشیدہ جہاں سے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">۴۳ء میں ہم لوگ کالج سے فارغ ہوئے اور ۵۳ء میں میں نے ایم اے او کالج امرتسر میں ملازمت کرلی۔یہاں سے میری اور میرے بہت سے ہمعصرلکھنے والوں کی ذہنی اورجذباتی زندگی کا نیا دور شروع ہوتا ہے۔اس دوران کالج میں اپنے رفقاء صاحب زادہ محمود الظفر مرحوم اوران کی بیگم رشیدہ جہاں سے ملاقات ہوئی۔پھر ترقی پسند تحریک کی داغ بیل پڑی ، مزدور تحریک کا سلسلہ شروع ہوا اور یوں&nbsp; لگا کہ جیسے گلشن میں ایک نہیں کئی دبستان کھل گئے ہیں۔اس دبستان میں سب سے پہلا سبق جو ہم نے سیکھا تھاکہ اپنی ذات باقی دنیا سے الگ کرکے سوچنااول تو ممکن ہی نہیں،اس لئے کہ اس میں بہر حال گردوپیش کے سبھی تجربات شامل ہوتے ہیں اوراگر ایسا ممکن ہوبھی تو انتہائی غیر سودمند فعل ہے کہ ایک انسانی فرد کی ذات اپنی سب محبتوں اورکدورتوں مسرتوں اور رنجشوں کے باوجود بہت ہی چھوٹی سی بہت محدود اورحقیر شے ہے۔اس کی وسعت اور پہنائی کا پیمانہ تو باقی عالم موجودات سے اس کے ذہنی اورجذباتی رشتے ہیں،خاص طور پر انسانی برادری کے مشترکہ دکھ درد کے رشتے۔چنانچہ غمِ جاناں اورغمِ دوراں تو ایک ہی تجربے کے دو پہلو ہیں۔اسی نئے احساس کی ابتداء نقشِ فریادی کے دوسرے حصے کی پہلی نظم سے ہوتی ہے۔اس نظم کا عنوان ہے &rsquo;&rsquo;مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ&lsquo;&lsquo;</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">اور اگر آپ خاتون ہیںتو&rsquo;&rsquo;مرے محبوب نہ مانگ&lsquo;&lsquo;</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4" /></p>
<h1 align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono">&rsquo;&rsquo;مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ</font></h1>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">&nbsp;&nbsp;&nbsp;میں نے سمجھاتھاکہ توہے درخشاں ہے حیات</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">&nbsp;&nbsp;&nbsp;تیرا غم ہے تو غمِ دہر کا جھگڑا کیا ہے</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">&nbsp;&nbsp;&nbsp;تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">&nbsp;&nbsp;&nbsp;تیری آنکھوں کے سوادنیا میں رکھاکیا ہے؟</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">تومل جائے تو تقدیر نِگُوں ہوجائے</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">یوں نہ تھا،میں نے فقط چاہاتھا یُوں ہوجائے</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">&nbsp;&nbsp;&nbsp;اور بھی دُکھ ہیں زمانے میں محبت سے سوا&nbsp;</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">&nbsp;&nbsp;&nbsp;راحتیں اور بھی وصل کی راحت کے سوا</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">&nbsp;&nbsp;&nbsp;ان گنت صدیوں کے تاریک بہیمانہ طلسم</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">&nbsp;&nbsp;&nbsp;ریشم و اطلس و کمخاب میں بُنوائے ہوئے</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">&nbsp;&nbsp;&nbsp;جابجابکتے ہوئے کوچہ و بازار میں جسم</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">&nbsp;&nbsp;&nbsp;خاک میں لتھڑے ہوئے خون میں نہائے ہوئے</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">جسم نکلے ہوئے امراض کے تنوروں سے</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">پیپ بہتی ہوئی گلتے ہوئے ناسوروں سے</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">لوٹ جاتی ہے ادھر کوبھی نظرکیاکیجئے</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">اب بھی دلکش ہے ترا حسن ،مگرکیاکیجئے</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono"><br /><font size="4" /></font></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://faizahmedfaiz.urdupoet.net/dast-tah-e-sung/45-pehli-see-mohabbat-mairay-mehboob-na-maang/feed/</wfw:commentRss>
		</item>
		<item>
		<title>Zindaan Nama Ki Aik Shaam</title>
		<link>http://faizahmedfaiz.urdupoet.net/dast-tah-e-sung/44-zindaan-nama-ki-aik-shaam/</link>
		<comments>http://faizahmedfaiz.urdupoet.net/dast-tah-e-sung/44-zindaan-nama-ki-aik-shaam/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 28 Apr 2007 11:33:45 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Admin</dc:creator>
		
		<category><![CDATA[Dast Tah e Sung]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://faizahmedfaiz.urdupoet.net/dast-tah-e-sung/44-zindaan-nama-ki-aik-shaam/</guid>
		<description><![CDATA[&#160;اس کے بعد تیر ہ چودہ برس&#8217;&#8217;کیوں نہ جہاں کا غم اپنالیں&#8216;&#8216;میں گزرے اورپھر فوج،صحافت ٹریڈیونین وغیرہ میں گزارنے کے بعد ہم چار برس کے لئے جیل خانے چلے گئے۔نقشِ فریادی کے بعد کی دوکتابیں&#8217;&#8217;دست صبا&#8216;&#8216;اور&#8217;&#8217;زنداں نامہ&#8216;&#8216;اسی جیل خانے کی یادگار ہیں۔بنیادی طورپر تویہ تحریریں انہیں ذہنی محسوسات اور معمولات سے منسلک ہیں جن کا [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">&nbsp;اس کے بعد تیر ہ چودہ برس&rsquo;&rsquo;کیوں نہ جہاں کا غم اپنالیں&lsquo;&lsquo;میں گزرے اورپھر فوج،صحافت ٹریڈیونین وغیرہ میں گزارنے کے بعد ہم چار برس کے لئے جیل خانے چلے گئے۔نقشِ فریادی کے بعد کی دوکتابیں&rsquo;&rsquo;دست صبا&lsquo;&lsquo;اور&rsquo;&rsquo;زنداں نامہ&lsquo;&lsquo;اسی جیل خانے کی یادگار ہیں۔بنیادی طورپر تویہ تحریریں انہیں ذہنی محسوسات اور معمولات سے منسلک ہیں جن کا سلسلہ مجھ سے پہلی سی محبت ،سے شروع ہو اتھالیکن جیل خانہ عاشقی کی طرح خود ایک بنیادی تجربہ ہے،جس میں فکرونظر کا ایک آدھ نیا دریچہ خودبخود کھل جاتا ہے۔چنانچہ اول تویہ ہے کہ ابتدائے شباب کی طرح تمام حسیات یعنی(Sensations)پھر تیز ہوجاتی ہیں اور صبح کی پَو،شام کے دُھندلکے،آسمان کی نیلاہٹ،ہوا کے گذار کے بارے میں وہی پہلا سا تحیر لوٹ آتا ہے۔دوسرے یوں ہوتا ہے کہ باہر کی دنیا کا وقت اورفاصلے دونوں باطل ہوجاتے ہیں۔نزدیک کی چیزیں بھی بہت دور ہوجاتی ہیں اوردور کی نزدیک اورفرداودی کا تفرقہ کچھ اس طور سے مت جاتا ہے کہ کبھی ایک لمحہ قیامت معلوم ہوتا ہے اورکبھی ایک صدی کل کی بات۔تیسری بات یہ ہے کہ فراغتِ ہجراں میں فکرومطالعہ کے ساتھ عروسِ سخن کے ظاہری بناؤ سنگھاؤ پر توجہ دینے کی زیادہ مہلت ملتی ہے۔جیل خانے کے بھی دو دور تھے۔ایک حیدرآباد جیل کا جواس تجربے کے انکشاف کے تحیر کا زمانہ تھا،ایک منٹگمری جیل کا جو اس تجربے سے اکتاہٹ اورتھکن کا زمانہ تھا۔ان دو کیفیتوں کی نمائندہ یہ دو نظمیں ہیں ،پہلی&rsquo;&rsquo;دستِ صبا&lsquo;&lsquo; میں ہے دوسری&rsquo;&rsquo;زندان نامہ&lsquo;&lsquo;میں ہے۔</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4" /></p>
<h1 align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono">زندان نامہ کی ایک شام</font></h1>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">شام کے پیچ و خم ستاروں سے</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">زینہ زینہ اُتر رہی ہے رات</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">یوں صبا پاس سے گزرتی ہے</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">جیسے کہہ دی کسی نے پیار کی بات</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">صحنِ زنداں کے بے وطن اشجار</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">سرنگوں ، محو ہیں بنانے&nbsp; میں</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">دامنِ آسماں پہ نقش و نگار</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4" /></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4" /></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">شانہ بام پر دمکتا ہے</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">مہرباں چاندنی کا دست جمیل</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">خاک میںگُھل گئی ہے آب نجوم</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">نُور میں گُھل گئی ہے عرش کا نیل</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">سبز گوشوں میں نیلگوں سائے</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">لہلہاتے ہیں جس طرح دل میں</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">موجِ دردِ فراقِ یار آئے</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4" /></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4" /></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">دل سے پیہم خیال کہتا ہے</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">اتنی شیریں ہے زندگی اس پل</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">ظلم کا زہر گھولنے والے</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">کامراں ہوسکیں&nbsp; گے آج نہ کل</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">جلوہ گاہِ وصال کی شمعیں</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">وہ بجھا بھی چکے اگر تو کیا</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">چاند کو گُل کریں تو ہم جانیں</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4" /></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4" /></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4" /></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://faizahmedfaiz.urdupoet.net/dast-tah-e-sung/44-zindaan-nama-ki-aik-shaam/feed/</wfw:commentRss>
		</item>
		<item>
		<title>Aye Roshniyoon Kay Shehar</title>
		<link>http://faizahmedfaiz.urdupoet.net/dast-tah-e-sung/43-aye-roshniyoon-kay-shehar/</link>
		<comments>http://faizahmedfaiz.urdupoet.net/dast-tah-e-sung/43-aye-roshniyoon-kay-shehar/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 28 Apr 2007 11:32:42 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Admin</dc:creator>
		
		<category><![CDATA[Dast Tah e Sung]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://faizahmedfaiz.urdupoet.net/dast-tah-e-sung/43-aye-roshniyoon-kay-shehar/</guid>
		<description><![CDATA[&#8217;&#8217;اے روشنیوں کے شہر&#8216;&#8216;
سبزہ سبزہ سوکھ رہی ہے پھیکی زرد دوپہر
دیواروں کو چاٹ رہا ہے تنہائی کا زہر
دور افق تک گھٹتی،بڑھتی ،اٹھتی،گرتی رہتی ہے
کہر کی صورت بے رونق دردوں کی گدلی لہر
بستا ہے اِس کُہر کے پیچھے روشنیوں کا شہر
&#160;&#160;&#160;&#160;&#160;اے روشنیوں کے شہر
&#160;&#160;&#160;&#160;&#160;اے روشنیوں کے شہر
کون کہے کس سمت ہے تیری روشنیوں کی راہ
ہر جانب [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<h1 align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono">&rsquo;&rsquo;اے روشنیوں کے شہر&lsquo;&lsquo;</font></h1>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">سبزہ سبزہ سوکھ رہی ہے پھیکی زرد دوپہر</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">دیواروں کو چاٹ رہا ہے تنہائی کا زہر</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">دور افق تک گھٹتی،بڑھتی ،اٹھتی،گرتی رہتی ہے</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">کہر کی صورت بے رونق دردوں کی گدلی لہر</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">بستا ہے اِس کُہر کے پیچھے روشنیوں کا شہر</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;اے روشنیوں کے شہر</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;اے روشنیوں کے شہر</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">کون کہے کس سمت ہے تیری روشنیوں کی راہ</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">ہر جانب بے نورکھڑی ہے ہجر کی شہر پناہ</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">تھک کر ہر سُو بیٹھ رہی ہے شوق کی ماند سپاہ</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;آج مرا دل فکر میں ہے</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;اے روشنیوں کے شہر</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">شبخوں سے منہ پھیر نہ جائے ارمانوں کی رو</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">خیر ہو تیری لیلاؤں کی ،ان سب سے کہہ دو</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">آج کی شب جب دیئے جلائیں اونچی رکھیں لو</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono"><br /><font size="4" /></font></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://faizahmedfaiz.urdupoet.net/dast-tah-e-sung/43-aye-roshniyoon-kay-shehar/feed/</wfw:commentRss>
		</item>
		<item>
		<title>Kab Thehray Ga Dard Aye Dil Kab Raat Basar ho Gi</title>
		<link>http://faizahmedfaiz.urdupoet.net/dast-tah-e-sung/42-kab-thehray-ga-dard-aye-dil-kab-raat-basar-ho-gi/</link>
		<comments>http://faizahmedfaiz.urdupoet.net/dast-tah-e-sung/42-kab-thehray-ga-dard-aye-dil-kab-raat-basar-ho-gi/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 28 Apr 2007 11:32:10 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Admin</dc:creator>
		
		<category><![CDATA[Dast Tah e Sung]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://faizahmedfaiz.urdupoet.net/dast-tah-e-sung/42-kab-thehray-ga-dard-aye-dil-kab-raat-basar-ho-gi/</guid>
		<description><![CDATA[زنداں نامے کے بعد کچھ زہنی افراتفری کا زمانہ ہے جس میں اپنا اخباری پیشہ چُھٹا ،ایک بار جیل گئے۔مارشل لاء کا دور آیا،اورذہنی گردوپیش کی فضا میں پھر سے کچھ انسداد راہ اورکچھ نئی راہوں کی طلب کا احساس پیداہوا۔اس سکوت اورانتظار کی آئینہ دار ایک نظم ہے&#8217;&#8217;شام&#8216;&#8216;اور ایک نامکمل غزل کے چند اشعار:
کب [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">زنداں نامے کے بعد کچھ زہنی افراتفری کا زمانہ ہے جس میں اپنا اخباری پیشہ چُھٹا ،ایک بار جیل گئے۔مارشل لاء کا دور آیا،اورذہنی گردوپیش کی فضا میں پھر سے کچھ انسداد راہ اورکچھ نئی راہوں کی طلب کا احساس پیداہوا۔اس سکوت اورانتظار کی آئینہ دار ایک نظم ہے&rsquo;&rsquo;شام&lsquo;&lsquo;اور ایک نامکمل غزل کے چند اشعار:</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">کب ٹھہرے گا درد اے دل کب رات بسر ہوگی!</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;فیض</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4" /></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">یہ خوں کی مہک ہے کہ لبِ یار کی خوشبو</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">کس راہ کی جانب سے صبا آتی ہے دیکھو</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">گلشن میں بہار آئی کہ زنداں ہُوا آباد</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">کِس سمت سے نغموں کی صدا آتی ہے دیکھو</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4" /></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://faizahmedfaiz.urdupoet.net/dast-tah-e-sung/42-kab-thehray-ga-dard-aye-dil-kab-raat-basar-ho-gi/feed/</wfw:commentRss>
		</item>
		<item>
		<title>Dast e Tah e Sang Amdah</title>
		<link>http://faizahmedfaiz.urdupoet.net/dast-tah-e-sung/41-dast-e-tah-e-sang-amdah/</link>
		<comments>http://faizahmedfaiz.urdupoet.net/dast-tah-e-sung/41-dast-e-tah-e-sang-amdah/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 28 Apr 2007 11:30:50 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Admin</dc:creator>
		
		<category><![CDATA[Dast Tah e Sung]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://faizahmedfaiz.urdupoet.net/dast-tah-e-sung/41-dast-e-tah-e-sang-amdah/</guid>
		<description><![CDATA[دستِ تہِ سنگ آمدہ
بیزار فضا ، درپئے آزارِ صبا ہے
یوں ہے کہ ہر اک ہمدمِ دیرینہ خفا ہے
ہاں بادہ کشو آیا ہے اب پہ موسم
اب سیر کے قابل روشِ آب و وہوا ہے
اُمڈی ہے ہر اک سمت سے الزام کی برسات
چھائی ہوئی ہر دانگ ملامت کی گھٹا ہے
وہ چیز بھری ہے کہ سلگتی ہے صراحی
ہر [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">دستِ تہِ سنگ آمدہ</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">بیزار فضا ، درپئے آزارِ صبا ہے</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">یوں ہے کہ ہر اک ہمدمِ دیرینہ خفا ہے</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">ہاں بادہ کشو آیا ہے اب پہ موسم</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">اب سیر کے قابل روشِ آب و وہوا ہے</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">اُمڈی ہے ہر اک سمت سے الزام کی برسات</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">چھائی ہوئی ہر دانگ ملامت کی گھٹا ہے</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">وہ چیز بھری ہے کہ سلگتی ہے صراحی</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">ہر کاسہ ہے زہرِ ھلاہل سے سوا ہے</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">ہاں جام اٹھاؤ کہ بیادِ لبِ شیریں</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">یہ زہر تو یاروں نے کئی بار پیا ہے</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">اس جذبہ دل کی نہ سزا ہے نہ جزا ہے</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">مقصود رہِ شوق وفا ہے نہ جفا ہے</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">احساسِ غمِ دل جو غمِ دل کا صلا ہے</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">اس حسن کا احساس ہے جو تیری عطا ہے</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">ہر صبح گلستاں ہے ترا روئے بہاریں</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">ہر پھول تری یاد کا نقشِ کفِ پا ہے</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">ہر بھیگی ہوئی رات تری زلف کی شبنم</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">ڈھلتا ہوا سورج ترے ہونٹوں کی فضا ہے</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">ہر راہ پہنچتی ہے تری چاہ کے در تک</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">ہر حرف تمنّا ترے قدموں کی صدا ہے</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">تعزیر سیاست ہے ، نہ غیروں کی خطا ہے</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">وہ ظلم جو ہم نے دلِ وحشی پہ کیا ہے</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">زندانِ رہِ یار میں پابند ہوئے ہم</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">زنجیر بکف ہے ، نہ کوئی بند بپا ہے</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">&rsquo;&rsquo;مجبوری و دعویٰ گرفتاریِ الفت</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">دستِ تہِ سنگ آمدہ پیمانِ وفاہے&lsquo;&lsquo;</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4" /></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://faizahmedfaiz.urdupoet.net/dast-tah-e-sung/41-dast-e-tah-e-sang-amdah/feed/</wfw:commentRss>
		</item>
		<item>
		<title>Maykhanoon Ki Rounak hein</title>
		<link>http://faizahmedfaiz.urdupoet.net/dast-tah-e-sung/40-maykhanoon-ki-rounak-hein/</link>
		<comments>http://faizahmedfaiz.urdupoet.net/dast-tah-e-sung/40-maykhanoon-ki-rounak-hein/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 28 Apr 2007 11:30:00 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Admin</dc:creator>
		
		<category><![CDATA[Dast Tah e Sung]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://faizahmedfaiz.urdupoet.net/dast-tah-e-sung/40-maykhanoon-ki-rounak-hein/</guid>
		<description><![CDATA[میخانوں کی رونق ہیں ، کبھی خانقہوں کی
اپنا لی ہوس والوں نے جو رسم چلی ہے
دلداری واعظ کو ہمیں باقی ہیں ورنہ
اب شہر میں ہر رندِ خرابات ولی ہے

]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">میخانوں کی رونق ہیں ، کبھی خانقہوں کی</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">اپنا لی ہوس والوں نے جو رسم چلی ہے</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">دلداری واعظ کو ہمیں باقی ہیں ورنہ</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4">اب شہر میں ہر رندِ خرابات ولی ہے</font></p>
<p align="center"><font face="Urdu Naskh Asiatype,Andale Mono" size="4" /></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://faizahmedfaiz.urdupoet.net/dast-tah-e-sung/40-maykhanoon-ki-rounak-hein/feed/</wfw:commentRss>
		</item>
	</channel>
</rss>
