Pehli See Mohabbat Mairay Mehboob Na Maang

April 28, 2007 on 11:35 am | In Dast Tah e Sung | No Comments

۴۳ء میں ہم لوگ کالج سے فارغ ہوئے اور ۵۳ء میں میں نے ایم اے او کالج امرتسر میں ملازمت کرلی۔یہاں سے میری اور میرے بہت سے ہمعصرلکھنے والوں کی ذہنی اورجذباتی زندگی کا نیا دور شروع ہوتا ہے۔اس دوران کالج میں اپنے رفقاء صاحب زادہ محمود الظفر مرحوم اوران کی بیگم رشیدہ جہاں سے ملاقات ہوئی۔پھر ترقی پسند تحریک کی داغ بیل پڑی ، مزدور تحریک کا سلسلہ شروع ہوا اور یوں  لگا کہ جیسے گلشن میں ایک نہیں کئی دبستان کھل گئے ہیں۔اس دبستان میں سب سے پہلا سبق جو ہم نے سیکھا تھاکہ اپنی ذات باقی دنیا سے الگ کرکے سوچنااول تو ممکن ہی نہیں،اس لئے کہ اس میں بہر حال گردوپیش کے سبھی تجربات شامل ہوتے ہیں اوراگر ایسا ممکن ہوبھی تو انتہائی غیر سودمند فعل ہے کہ ایک انسانی فرد کی ذات اپنی سب محبتوں اورکدورتوں مسرتوں اور رنجشوں کے باوجود بہت ہی چھوٹی سی بہت محدود اورحقیر شے ہے۔اس کی وسعت اور پہنائی کا پیمانہ تو باقی عالم موجودات سے اس کے ذہنی اورجذباتی رشتے ہیں،خاص طور پر انسانی برادری کے مشترکہ دکھ درد کے رشتے۔چنانچہ غمِ جاناں اورغمِ دوراں تو ایک ہی تجربے کے دو پہلو ہیں۔اسی نئے احساس کی ابتداء نقشِ فریادی کے دوسرے حصے کی پہلی نظم سے ہوتی ہے۔اس نظم کا عنوان ہے ’’مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ‘‘

اور اگر آپ خاتون ہیںتو’’مرے محبوب نہ مانگ‘‘

’’مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ

   میں نے سمجھاتھاکہ توہے درخشاں ہے حیات

   تیرا غم ہے تو غمِ دہر کا جھگڑا کیا ہے

   تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات

   تیری آنکھوں کے سوادنیا میں رکھاکیا ہے؟

تومل جائے تو تقدیر نِگُوں ہوجائے

یوں نہ تھا،میں نے فقط چاہاتھا یُوں ہوجائے

   اور بھی دُکھ ہیں زمانے میں محبت سے سوا 

   راحتیں اور بھی وصل کی راحت کے سوا

   ان گنت صدیوں کے تاریک بہیمانہ طلسم

   ریشم و اطلس و کمخاب میں بُنوائے ہوئے

   جابجابکتے ہوئے کوچہ و بازار میں جسم

   خاک میں لتھڑے ہوئے خون میں نہائے ہوئے

جسم نکلے ہوئے امراض کے تنوروں سے

پیپ بہتی ہوئی گلتے ہوئے ناسوروں سے

لوٹ جاتی ہے ادھر کوبھی نظرکیاکیجئے

اب بھی دلکش ہے ترا حسن ،مگرکیاکیجئے

    اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا

    راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا

مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ


Zindaan Nama Ki Aik Shaam

April 28, 2007 on 11:33 am | In Dast Tah e Sung | No Comments

 اس کے بعد تیر ہ چودہ برس’’کیوں نہ جہاں کا غم اپنالیں‘‘میں گزرے اورپھر فوج،صحافت ٹریڈیونین وغیرہ میں گزارنے کے بعد ہم چار برس کے لئے جیل خانے چلے گئے۔نقشِ فریادی کے بعد کی دوکتابیں’’دست صبا‘‘اور’’زنداں نامہ‘‘اسی جیل خانے کی یادگار ہیں۔بنیادی طورپر تویہ تحریریں انہیں ذہنی محسوسات اور معمولات سے منسلک ہیں جن کا سلسلہ مجھ سے پہلی سی محبت ،سے شروع ہو اتھالیکن جیل خانہ عاشقی کی طرح خود ایک بنیادی تجربہ ہے،جس میں فکرونظر کا ایک آدھ نیا دریچہ خودبخود کھل جاتا ہے۔چنانچہ اول تویہ ہے کہ ابتدائے شباب کی طرح تمام حسیات یعنی(Sensations)پھر تیز ہوجاتی ہیں اور صبح کی پَو،شام کے دُھندلکے،آسمان کی نیلاہٹ،ہوا کے گذار کے بارے میں وہی پہلا سا تحیر لوٹ آتا ہے۔دوسرے یوں ہوتا ہے کہ باہر کی دنیا کا وقت اورفاصلے دونوں باطل ہوجاتے ہیں۔نزدیک کی چیزیں بھی بہت دور ہوجاتی ہیں اوردور کی نزدیک اورفرداودی کا تفرقہ کچھ اس طور سے مت جاتا ہے کہ کبھی ایک لمحہ قیامت معلوم ہوتا ہے اورکبھی ایک صدی کل کی بات۔تیسری بات یہ ہے کہ فراغتِ ہجراں میں فکرومطالعہ کے ساتھ عروسِ سخن کے ظاہری بناؤ سنگھاؤ پر توجہ دینے کی زیادہ مہلت ملتی ہے۔جیل خانے کے بھی دو دور تھے۔ایک حیدرآباد جیل کا جواس تجربے کے انکشاف کے تحیر کا زمانہ تھا،ایک منٹگمری جیل کا جو اس تجربے سے اکتاہٹ اورتھکن کا زمانہ تھا۔ان دو کیفیتوں کی نمائندہ یہ دو نظمیں ہیں ،پہلی’’دستِ صبا‘‘ میں ہے دوسری’’زندان نامہ‘‘میں ہے۔

زندان نامہ کی ایک شام

شام کے پیچ و خم ستاروں سے

زینہ زینہ اُتر رہی ہے رات

یوں صبا پاس سے گزرتی ہے

جیسے کہہ دی کسی نے پیار کی بات

صحنِ زنداں کے بے وطن اشجار

سرنگوں ، محو ہیں بنانے  میں

دامنِ آسماں پہ نقش و نگار

شانہ بام پر دمکتا ہے

مہرباں چاندنی کا دست جمیل

خاک میںگُھل گئی ہے آب نجوم

نُور میں گُھل گئی ہے عرش کا نیل

سبز گوشوں میں نیلگوں سائے

لہلہاتے ہیں جس طرح دل میں

موجِ دردِ فراقِ یار آئے

دل سے پیہم خیال کہتا ہے

اتنی شیریں ہے زندگی اس پل

ظلم کا زہر گھولنے والے

کامراں ہوسکیں  گے آج نہ کل

جلوہ گاہِ وصال کی شمعیں

وہ بجھا بھی چکے اگر تو کیا

چاند کو گُل کریں تو ہم جانیں

« Previous PageNext Page »

Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed: Entries and comments feeds. ^Top^